Showing posts with label Dairy and Cattle Farming Awareness in Pakistan. Show all posts
Showing posts with label Dairy and Cattle Farming Awareness in Pakistan. Show all posts

Monday, 10 April 2017

Dairy Farming Business in Pakistan

گاۓ کے فارم کو شروع کرنا.
گاۓ کا فارم شروع کرنے سے پہلے اپنے فارم میں صاف ، ہلکے پانی کا بندوبست کرنا چاہے ( جھنگ اور سرگودھا کا پانی بھاری ہونے کی وجہ سے مناسب نہیں. فلٹریشن کرنا ہوگا) اس کے علاوہ آپ کے پاس چارے کا بندوبست اس طرح ہونا چاہۓ. سیلج ، توڑی تیار خریدنا اور ونڈا تیار خریدنا ( 10 ، 10 اور 37 روپے کلو بلترتیب)  یا سیلج اور توڑی اپنے زمین سے حاصل کرنا اور تیار ونڈا ( 3 ،3 اور 37 روپے فی کلو بلترتیب) یا ونڈا اپنا بنانا کھل، چوکر ، مکئ ، ٹوٹا دالیں، شیرہ راب، چاول پالش ( 26 تا 30 روپے فی کلو) یا ٹوٹل مکس راشن بنانا جو توڑی، سیلج، چوکر، روٹیاں، کھل ، اور دوسرے اجزا کا امیزہ ہوتا ہے اس کا ریٹ, اجزا کے ریٹ پر منحصر ہے . یا صرف ونڈا اور توڑی جو کہ ذیادہ تر بھنس کے لیے استعمال ہوتا ہے.
اس کے بعد جانور خریدنے کا باری ہے. اچھے نسل کے جانور اگرچہ مہنگے ضرور ہوتے ہے لیکن آپ کو ایک دفعہ لینا ہوتاہے. اس کے علاوہ گبن جانور لینا بہت فائدہ مند ہے لیکن 8 مہینے سے کم گبن نہ ہو. اگر تازہ سواہ ہو تو کوئی بات نہیں لیکن ایک مہینے سے ذیادہ نہ ہو کیونکہ آپ کے حصے کا دودھ کم آۓ گا. جانور خریدتے وقت خیال رہےکہ:
اس کے چاروں تھن ایک ہی لیول پر ہو. اونچ نیچ ساڑو کی نشانی ہے. ایسا جانور مفت بھی نہ لو.
اس کے ناک، انکھ سے کوئی پانی رال نہ بہے.
جانور چست ہو.
اس کا چمڑہ چمکدار ہو تیل نہ لگا ہو. یاد رکھو کہ بیوپاری حضرات جانور کو نہیں خریدار کو تیل لگاتے ہیں.
جانور کا چڈہ دم کے قریب تک پہنچا ہوا ہوں. اس کے دونوں رانوں کے اوپر والے پن بون کے درمیان فاصلہ ذیادہ سے ذیادہ ہو تاکہ چڈے کے لیے جگہ بڑا ہو. دم پتلی اور لمبی ہو. سینہ چوڑا اور کھلا ہو. ناک کے سوراخ بڑے ہو (اکسیجن کے لیے سینہ بڑا ہو). دودھ کا رگ موٹا اور بہت ٹڑا مڑا ہو اور دور سے واضح نظر آتا ہو. (چڈے کو جتنا ذیادہ خون جاۓ گا اتنا ہی دودھ ذیادہ بنے گا)
فارم کے لیے گاۓ لینے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ 24 گھنٹے دودھ: 10 کلو قمیت 105000 اور 20 کلو دودھ قمیت 210000
فارم کے لیے دیسی گاۓ 12 کلو دودھ 24 گھنٹوں میں، سے کم کبھی نہ لو
ولائتی گاۓ 16 کلو سے کم نہ لو. اس سے ذیادہ ہر کلو دودھ اپکا منافع ہوگا.
اپنے فارم کو منافع بخش بنانے کے لیے دو اصول یاد رکھو. گاۓ کے سوۓ کے 90 دن کے اندر اندر گاۓ دوبارہ گابن ہو. اس کے لیے سوۓ کے 15 دن بعد 2 عدد کنسپٹال لگاو.
اگر گاۓ کے پاوں میں زخم آۓ (ذیادہ تر طاقت ور خوراک میں میھٹا سوڈا نہ ڈالنے کی وجہ سے یا کیل پھتر لگنے سے یا جگہ ذیادہ عرصہ گیلا ہونے یا کمزوری سے یا لنگڑی کے بخار سے) تو اس کو فورا بیچ کر دوسرا جانور خریدنا چاہے. جتنا دیر کروگے اتنا ہی نقصان کروگے. اس کے علاوہ میٹھا ساڑوں سے بھی جانور کو بچانے کے لیے قریبی لیب سے ہر تین مہنیے بعد صاف سرنج میں دودھ لے جاکر مفت ٹسٹ کرواتے جاو. اگر کسی وجہ سے علاج میں کوتاہی ہو تو جانور کا دودھ 4 کلو تک پہنچنے سے پہلے بیچ دو (24 گھنٹے میں) اس جگہ نیا جانور کو لاکر بدلی کردو. ورنہ فارم کو نقصان پہنچتے پہنچتے بند کرنا پڑے گا. 4 کلو والا گاۓ جو گبن نہ ہو گھریلوں ضرورت پورا کرتی ہے مگر یہی گاۓ اگر فارم پر 6 کلو سے کم دودھ دے تو نقصان کراتی ہے. اس کے علاوہ جو گاۓ گبن نہ اور وہ بار بار واپس ہو اس کو بھی فروخت کرکے نیا گاۓ لانا چاھے.
فارم میں جانوروں سے وفاداری نبانے والے اکثر نقصان میں رہتے ہیں.
‏" ٹرین اور گاۓ کا انتظار نہ کرو، ایک جاۓ تو دوسرا آۓ"

Sunday, 9 April 2017

Dairy and Cattle Farming Awareness in Pakistan

Pakistan Dairy and Cattle Farming
محترم دوستوں
فیل ہونے کا سن یا خیال آتے ہیں بہت دوست اگر ڈیری میں آنا چاہتے ہیں تو رک جاتے ہیں.
دراصل یہی بات ہی ڈیری فارم کی سب سے بڑی منافع دینے والا وجہ ہے.
High risk high profit
اصل میں جب بہت سارے لوگ ایک طرح کا کام کرنے لگ جاۓ تو اس کا منافع گھٹاتا جاتا ہے، اور مقابلے کی صورت میں فائدہ کم رہ جاتا ہے. میرے نزد اگر آپ مندرجہ ذیل امور پر خیال رکھیں تو آپ کو ڈیری فارم سب سے منافع بخش کام لگے گا.
‏1) ڈیری فارم میں بھنس کے بجاۓ گاۓ ذیادہ رکھنا
‏2) ایک ساتھ جانوروں کے خریداری کے بجاۓ 5، 5 یا ‏10، 10 جانور جو 1 ماہ کے تازہ سوھۓ ہوۓ ہو اور جن کا پہلا یا دوسرا سواھ ہو خریدنا
‏3) جانور کے لیے اپنا ونڈا خود‎ ‎‏ تیار کرنا، چاہیے کتنا ہی سادہ ونڈا کیوں نہ ہو. اس طرح سیلج اپنا تیار کرنا. جو فارم کمپنیز کا سیلج استعمال کرتے ہیں ان کا خرچہ دگنا ہوکر نقصان کی صورت نکل آتی ہے.
‏4) گاۓ کو سوھۓ ہوۓ 60 دن بعد گرم کرنے والے ‏LUTALASE ‎‏ یا ‏STILBESTROLE‏ 2 تا 3 سی سی ٹیکا لگایا جاۓ. ملائی کے ساتھ ہی ‏CONCEPTAL‏ لگانا ضروری ہے. اسطرح فارمرز کے پاس ہر سال بچڑا پیدا ہوکر فارم کا منافع بڑھتا رہے گا.
‏5) جانوروں کے گوبر، خون اور دودھ کا ٹیسٹ ہر 3 مہینے بعد کرایا جاۓ. جس جانور کو مسئلہ ہو اس کو بروقت ٹھیک جاۓ تو نقصان سے بہت حد تک بچہ جاسکتاہے.‏
‏6) دودھ یا خون سے بروسلہ کا تشخص کرکے متاثرہ جانور کو فارم سے ختم کیا جاۓ، تاکہ فارم گاۓ کچا بچڑے نہ گراۓ اور دوبارہ گبن ہونے کا مسئلہ نہ رہے.‏
‏7) نمکیات جس کو منرل مکسچر کہتے ہیں کا استعمال کیا جاۓ تاکہ سوتک کا بیماری نہ آۓ اور جانور دودھ اپنے حساب سے پورا دے.‏
‏8) دودھ کو کمپنی کے بجاۓ شہروں اور دھاتوں کے قریب اپنی دودھ کے دکان اور مراکز کھول کر فروخت کیا جاۓ. اس کے لیے دیانت دار لوگ رکھے جاۓ کہ پانی کا ملاپ نہ ہو. دکان پر مالک کا خود ہونا بہتر رہے. کیمرے لگانا یا جاسوس رکھنا مالک کا ہرگز متبادل نہیں.‏‎ ‎9‏) اگر اپنا دکان نہیں کھول سکتے تو میٹائیوں اور دودھ فروخت کرنے والوں کو براہ راست بیچ دینا بہتر ہے. اس کے لیے اپنا گاڑی رکھنا ذیادہ بہتر ہے. گوالوں سے ہر صورت دور رہنا بہترہے.
‏10) سب اچھا مزدور مالک ہی ہے. کوشش کرے کہ آپ فارم یا دودھ فروخت کرنے کا کام خود ہی کرے. پیسوں کے لین دین میں دوسروں پر کم سے کم انحصار کریں. مارکیٹ کے ادھار اور سپلائی پر ہر وقت نظر رکھیں. لوگ چور نہیں ہوتے آپ کے لاپرواہی اور سستی سے ان کو چور بننے کا موقع فراہم کرتی جس میں قصور صرف اورصرف مالک کا ہوتاہے.
‏12) اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ لیبر اور منیجر پر شک کرنے لگو. آپ کو سارے بندوں پر آزمائش کرنا چاہیے اور اس کے بعد اعتماد کرنا ہے. آزمائش کے بغیر کسی صورت لوگوں پر ذمہ واری اور اعتماد کرنا بہت بڑا خطرہ مول لینے والا معاملہ رہے گا
‏13) لیبر کو تنخواہ اور کھانا وقت پر دو.
‏14) زکوات اور عشر وقت دیا کرو.
‏15) جانوروں کو منہ کھر، کھل گھوٹو، سٹ، چوڑی مار کے حفاظتی ٹیکے وقت پر لگایا کریں.
‏16) چیچڑ اور بخار کے ٹیکے وقت پر لگایا کرو
‏17) دودھ والے جانوروں کے ساتھ ساتھ قربانی اور گوشت کے لیے جانور تیار کیا کرو
https://web.facebook.com/muslimdairyfarm/?ref=bookmarks